1. فہرست مضامین
  2. نیوی گیشن
  3. مزید مضامین
  4. میٹا نیوی گیشن
  5. تلاش
  6. تیس زبانوں میں سے انتخاب کریں


 

حالات حاضرہ  | 11.03.2010

یونان میں ہڑتال، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

 

شدید اقتصادی بحران کی شکار یورپی ریاست یونان میں حکومت کے بچتی پروگرام کے خلاف دوسری مرتبہ ملک گیر ہڑتال کی گئی ہے۔ اس ہڑتال میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ورکرز شریک ہیں۔

 

  24  گھنٹے دورانیے کی اس ہڑتال کی وجہ سے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ اور اسکولوں سمیت دیگر ادارے بند ہیں جبکہ ہسپتالوں میں صرف ایمرجنسی سروس بحال ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی پروازیں بھی متاثر ہیں۔

 مظاہرین نے مختلف بینرز اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن میں سے کچھ پر درج تھا کہ فرانس ہمیں بحری آبدوزیں فروخت کرتا ہے، جرمنی جنگی ہوائی جہاز جبکہ ہم یونانی فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ 
Bildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift:   مظاہرین نے مختلف بینرز اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن میں سے کچھ پر درج تھا کہ فرانس ہمیں بحری آبدوزیں فروخت کرتا ہے، جرمنی جنگی ہوائی جہاز جبکہ ہم یونانی فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

ملک گیر ہڑتال کے دوران پچاس ہزار سے زائد افراد نے یونانی دارالحکومت ایتھنز کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ مارچ میں شامل نوجوانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق جلوس میں شامل قریب دو سو کے قریب نوجوانوں نے ایتھنز کی پولی ٹیکنیک یونیورسٹی کے علاقے میں پتھراؤ کیا، جس کی وجہ سے بینکوں، ریستورانوں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ نقاب چڑھائے ان نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسائے۔

جلوس میں شامل مظاہرین حکومتی اقدامات کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس بحران کے ذمہ دار عوام نہیں ہیں، لہٰذا ان سے اس کی قیمت وصول نہیں کی جاسکتی۔ مظاہرین نے مختلف بینرز اور کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن میں سے کچھ پر درج تھا کہ فرانس ہمیں بحری آبدوزیں فروخت کرتا ہے، جرمنی جنگی ہوائی جہاز جبکہ ہم یونانی فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

یونانی وزیراعظم جارج پاپاندریونے ملک کو درپیش اس اقتصادی بحران کےحوالے سے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا اور صدر باراک اوباما سے ملاقات کی۔Bildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift:  یونانی وزیراعظم جارج پاپاندریونے ملک کو درپیش اس اقتصادی بحران کےحوالے سے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا اور صدر باراک اوباما سے ملاقات کی۔

یونانی وزیراعظم جارج پاپاندریو ملک کو درپیش اس اقتصادی بحران کو ایک طرح کی ایمرجنسی سے تعبیر کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا اور صدر باراک اوباما سے ملاقات بھی کی۔ منگل نو مارچ کو اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران اس بحران سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر یورپی یونین کی امداد کے تناظر میں انہوں نے کہا، " ہماری خواہش ہے کہ ہمیں بین الاقوامی برادری سے کم شرح سود پر قرضہ مل جائے۔ اور یہ وہ معاملہ ہے جس کے لئے یورپی یونین سب سے مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں یورپی یونین اب اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔"

یونانی حکومت کی طرف سے اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے حال ہی میں ایک بچتی پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا، جس سے 4.8  بلین یورو کی بچت متوقع ہے۔ اس پروگرام کے تحت تنخواہوں میں اضافہ اور پنشنیں معطل کرنے کے علاوہ دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس پروگرام کے اعلان کے فوری بعد چار مارچ کو بھی سرکاری ملازمین کی طرف سے ہڑتال کی گئی تھی۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : مقبول ملک

 
 

فیڈ بیک »بھیجیں »پرنٹ کریں »

Weitere Schlagzeilen

 
آرٹیکل بُک مارک کریں


 
پاکستان میں بارشیں اور سیلاب
مسافر طیارے کی تباہی
اسلام آباد کے ایک ہسپتال سے ایئر بلیو کے ایک مسافر کی میت باہر لائی جا رہی ہے
آٹھ نوزائیدہ بچوں کی لاشیں برآمد
فرانس کے ایک گاؤں سے آٹھ بچوں کی لاشیں برآمد
لَو پریڈ میں بھگدڑ

خوشی غم میں تبدیل

ڈوئچے ویلے ٹویٹر پر
آن لائن نیوز لیٹر
Themenbild Newsletter
پوڈکاسٹنگ
آڈیو آن ڈیمانڈ
Audio, video, Multiklick, Banner

ڈوئچے ویلے کی نئی ویب سائٹ

ڈوئچے ویلے فیس بک پر